Blink

بند کرتے وقت رائیڈر کا کیش: کیش آن ڈیلیوری کا حساب روز کی بحث کے بغیر کیسے ملائیں

رات کے گیارہ بج کر چالیس منٹ ہیں اور گلشنِ اقبال کی برانچ پر ایک رائیڈر نوٹوں کی گڈی کاؤنٹر پر رکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے، “بھائی، چودہ آرڈر تھے، اٹھارہ ہزار چھ سو پچاس بنتے ہیں۔ بلاک 13-D والے نے پانچ سو کم دیے ہیں، کل دے دے گا، تو یہ اٹھارہ ہزار ایک سو پچاس ہیں۔” مینیجر دو بار گنتا ہے تو سترہ ہزار نو سو نکلتے ہیں۔ کم پڑنے والے ڈھائی سو روپے کس آرڈر کے ہیں، یہ کوئی نہیں بتا پاتا۔ رائیڈر تھکا ہوا ہے، مینیجر کو شک ہو رہا ہے، اور اگلی صبح مالک تک بس اتنی بات پہنچتی ہے کہ “کیش تھوڑا کم تھا۔”

پاکستان میں بہت سے ڈیلیوری والے ریستوران اب بھی بڑی حد تک کیش آن ڈیلیوری پر چلتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر رات آپ کی کمائی آپ کے رائیڈرز کی جیب میں شہر بھر میں گھوم رہی ہوتی ہے۔ اگر آپ اس کیش کو الگ الگ آرڈرز سے نہیں ملا سکتے تو آپ حساب بند نہیں کر رہے، آپ صرف اندازہ لگا رہے ہیں۔

کیش اصل میں کہاں غائب ہوتا ہے

زیادہ تر معاملات میں چوری نہیں ہوتی۔ عام طور پر چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو کہیں لکھی نہیں جاتیں۔ رائیڈر کے پاس کھلے پیسے نہیں تھے، اس نے شکایت ختم کرنے کے لیے دروازے پر ڈسکاؤنٹ دے دیا، کوئی آرڈر کینسل ہوا اور کھانا واپس آ گیا مگر رقم اس کی لسٹ میں رہ گئی، یا گاہک نے ایزی پیسہ، جاز کیش یا بینک ٹرانسفر سے ادائیگی کی اور آرڈر پھر بھی کیش لکھا رہا۔ اوپر سے فلوٹ میں سے پیٹرول کا ایڈوانس بھی نکل جائے تو حساب کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔

ہر شفٹ لکھے ہوئے فلوٹ سے شروع کریں

شفٹ کے شروع میں ہر رائیڈر کو کھلے پیسوں کی ایک طے شدہ رقم دیں اور اسے اس کے نام کے ساتھ درج کریں۔ بند کرتے وقت وہ فلوٹ کے ساتھ اپنے آرڈرز کا کیش واپس کرے گا۔ اگر شروع کی رقم معلوم نہیں ہو گی تو آخر میں کتنی رقم ہونی چاہیے، یہ بھی معلوم نہیں ہو سکے گا۔

ہر روپیہ کسی آرڈر سے جڑا ہونا چاہیے

ہر ڈیلیوری کاؤنٹر سے نکلنے سے پہلے سسٹم میں کسی رائیڈر کے نام لگنی چاہیے، اور اس کے ساتھ رقم اور ادائیگی کا طریقہ بھی درج ہونا چاہیے۔ بند کرتے وقت رائیڈر وائز لسٹ نکالیں جس میں آرڈر نمبر، علاقہ، رقم، اور کیش یا آن لائن ادائیگی لکھی ہو۔ پھر کیش کو اسی لسٹ کے ساتھ ایک ایک لائن کر کے ملائیں۔ اس طرح کمی پوری رات پر نہیں بلکہ کسی ایک آرڈر پر آ کر رکتی ہے۔

گڑبڑ کو اسی وقت درج کریں

ادھوری ادائیگی، واپس آئے آرڈر اور آن لائن ٹرانسفر اسی وقت سسٹم میں درج ہونے چاہییں جب وہ ہوں۔ انہیں آدھی رات کو یاد کرنے پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر بلاک 13-D کے گاہک کے ذمے پانچ سو روپے ہیں تو وہ اسی آرڈر پر نام اور فون نمبر کے ساتھ بقایا کے طور پر درج ہونے چاہییں۔ وہ رقم رائیڈر کے ذہن میں کیا گیا وعدہ نہیں رہنی چاہیے۔

حساب ہفتے میں نہیں، روز کریں

کیش جتنا زیادہ دیر رائیڈر کے پاس رہتا ہے، اس کا سراغ لگانا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ ہر شفٹ کے آخر میں حساب صاف کریں، چاہے اس میں وقت لگے۔ یہ طریقہ آپ کو بھی بچاتا ہے اور ایماندار رائیڈرز کو بھی۔

ایک عملی قدم

آج رات کسی بھی رائیڈر کے جانے سے پہلے اپنے POS سے رائیڈر وائز آرڈر لسٹ نکالیں اور ہر رائیڈر کا کیش اس کے سامنے کھڑے ہو کر اسی لسٹ سے ملائیں۔ اگر آپ کا سسٹم یہ لسٹ نہیں دے سکتا تو سب سے پہلے یہی مسئلہ حل کریں۔ Blink جیسے سسٹم، مثلاً اس کا ڈیلیوری مینجمنٹ اور POS، یہ لسٹ انہی آرڈرز سے بنا سکتے ہیں جو آپ کا کچن پہلے سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔

Would you recommend this article?
YesNo

Related Articles