Blink

واٹس ایپ چیٹ کوئی آرڈر سسٹم نہیں

کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں رات کا کام اکثر ایک واٹس ایپ میسج سے شروع ہوتا ہے۔ “2 زنگر، 1 ریگولر ڈرنک، ڈی ایچ اے فیز 6، کیش۔” لگتا ہے یہ مفت پڑ رہا ہے۔ نمبر پہلے سے محفوظ ہے، مہمان ایپ روز کھولتا ہے، اور اس آرڈر پر کسی ڈیلیوری ایپ کا کمیشن نہیں کٹا۔

اصل خرچ دوسری جگہ نکلتا ہے۔

چیٹ ٹکٹ نہیں ہوتی۔ رات آٹھ بجے ایک آدمی میسج پڑھتا ہے، آئٹم پوچھتا ہے، بلاک اور نشان لیتا ہے، پھر وہی آرڈر ہاتھ سے POS میں ڈالتا ہے۔ جواب دیر سے جائے تو مہمان کہیں اور سے منگوا لیتا ہے۔ آئٹم غلط لکھ جائے تو رائیڈر واپس آتا ہے۔ اس چیٹ کو یہ یاد نہیں رہتا کہ مہمان کون تھا، نہ لائلٹی لگتی ہے، نہ کچن کو خود پتہ چلتا ہے کہ آرڈر آ گیا۔

جب واٹس ایپ ہی آرڈرنگ سسٹم بن جائے تو تین کام ٹوٹ جاتے ہیں۔

آرڈر ریستوران کے اندر آتا ہی نہیں۔ POS پر نہیں تو کچن اسکرین پر نہیں، دن کی سیل میں نہیں، اور ڈیلیوری میں نہیں۔ یہ نہیں دیکھا جا سکتا کہ کون سی برانچ پچھڑ رہی ہے، کون سا آئٹم لائن روکے ہوئے ہے، اور کون سا رائیڈر فارغ ہے۔ رش کے وقت چیٹ یہ کام سب سے خراب کرتی ہے۔

مہمان واپس نہیں آتا۔ واٹس ایپ کا نمبر کسٹمر ریکارڈ نہیں۔ نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ہفتے میں کتنی بار آرڈر کرتا ہے، نہ یہ کہ پچھلی آفر چلی یا نہیں۔ لائلٹی، کیش بیک، اور ایک ٹیپ کا دوبارہ آرڈر تب بنتا ہے جب آرڈر آپ کے اپنے چینل پر ہو۔ چیٹ یہ نہیں کر سکتی، اور ڈیلیوری ایپ وہ مہمان آپ کے حوالے بھی نہیں کرتی۔

مہمان خود مینو پڑھ رہا ہوتا ہے۔ پرانی تصویر دیکھتا ہے، قیمت اندازے سے لگاتا ہے، اور انتظار کرتا ہے کہ کوئی لکھے آئٹم ختم ہو گیا۔ آرڈرنگ لنک وہی دکھاتا ہے جو اب دستیاب ہے، پتہ ایک بار لیتا ہے، اور سیدھا ٹکٹ بنا دیتا ہے۔ واٹس ایپ وہ دروازہ رہ سکتا ہے جہاں سے مہمان آپ تک پہنچے۔ آرڈر وہیں نہیں بننا چاہیے۔

واٹس ایپ گفتگو کے لیے رکھیں۔ جواب، شکایت، اور “کیا کھلا ہے؟”۔ ایک آرڈرنگ لنک بائیو میں رکھیں، سٹیٹس میں، اور پہلے آٹو ریپلائی میں۔ مہمان اب بھی چیٹ سے ہی شروع کرے۔ آرڈر اسی جگہ جائے جہاں کاؤنٹر، کچن، اور اپنی ڈیلیوری ہے۔ اگلی بار یہ مہمان آپ کا ہو، ان باکس کا نہیں۔

بھری ہوئی چیٹ اور ایک ایسا چینل جسے آپ چلا سکیں، ان دونوں میں یہی فرق ہے۔

Would you recommend this article?
YesNo

Related Articles